سانحہ بلدیہ کا نیا کردار سامنے آ گیا پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہائی پروفائل ٹارگٹ کلر یوسف عرف گدھا گاڑی نے اہم انکشافات کر ڈالے

سانحہ بلدیہ کا نیا کردار سامنے آ گیا پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہائی پروفائل ٹارگٹ کلر یوسف عرف گدھا گاڑی نے اہم انکشافات کر ڈالے

بلدیہ فیکٹری میں آگ کس نے لگائی اور ترقی کس کی ہوئی ؟؟ تین روز تک کون امدادی کیمپ لگا کر لاشیں نکالتا رہا ؟؟ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہائی پروفائل ٹارگٹ کلر یوسف عرف گدھا گاڑی نے دوران تفتیش اہم انکشافات کر ڈالے،،جس کی انٹیروگیشن ویڈیو بھی وقت نیوز نے حاصل کر لی ،، ملزم رحمان بھولا کا قریبی ساتھی ہے،،یوسف عرف گدھا گاڑی کے انکشافات کے بعد سانحہ بلدیہ کا ایک اور کردار سامنے آ گیا ،، تفتیش میں ملزم نے انکشاف کیا کہ سیکٹر انچارج اصغر بیگ آگ لگانے میں ملوث اور مرکزی کردار تھا، آگ لگی تو اصغر بیگ سیکٹر انچارج تھا بعد میں رحمان بھولا کو انچارج بنا دیا گیا، رحمان بھولا نے فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد تین دن تک امدادی کیمپ لگایا، رحمان بھولا بلدیہ سیکٹر کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ فیکٹری سے لاشیں نکالتا رہا، یوسف عرف گدھا گاڑی نے بتایا کہ رحمن بھولا سے تنازعہ ہوگیا تھا، اور اسے مخبری کر کے گرفتار کروا دیا گیا تھا، انہیں سیکٹر انچارج یا پھر یونٹ انچارج شاہد پاشا احکامات دیتا تھا، سیکٹر انچارج اصغر بیگ کی پوری فیملی بلدیہ فیکٹری میں کام کرتی تھی، اصغر بیگ کا بھائی اشرف بیگ فیکٹری میں مینجر تھا اور یاسر بیگ بھی فیکٹری کا ہی ملازم تھا،، فیکٹری کی اندر کی معلومات اصغر بیگ کی فیملی کے ذریعے باہر آتی تھیں، یوسف گدھا گاڑی نے ساتھیوں کے ہمراہ سولہ افراد کے قتل کی وارداتوں کا اعتراف بھی کیا ،، انٹیروگیشن رپورٹ کے مطابق ملزم نے عزیر بلوچ کے قریبی ساتھی شاہجہاں بلوچ کو قتل کیا جس پر عزیر بلوچ نے پریس کانفرنس بھی کی، رشید آباد میں اصغر بیگ کے حکم پر 2010 میں اے این پی کے 5 کارکنان کو قتل کیا، جس پر اصغر بیگ خوش ہوا، بلدیہ میں سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگ اور فسادات اصغر بیگ کے حکم پر ہوئے

Most Popular