فیس بک کی دوستی نے نوجوان کی جان لے لی۔

فیس بک کی دوستی نے نوجوان کی جان لے لی۔

فیس بک کی دوستی نے نوجوان کی جان لی۔ تصویر سے نعش کی شناخت ہوئی تو قاتل کا سراغ بھی لگ گیا۔ کراچی کا اسفند کرن سے ملنے منڈی بہائوالدین گیا تھا جہاں لڑکی کے بھائی نے اسے قتل کرڈالا۔کراچی کے اٹھارہ سالہ اسفند کی سوشل میڈیا پر کرن سے دوستی ہوئی تو اس سے ملنے اکیلا ہی منڈی بہاو الدین چلا آیا۔ کرن کا بھائی اسے دیکھ کر غصے میں آگیا اور دو ساتھیوں کے ساتھ قتل کرکے لاش دریا جہلم میں پھینک دی۔ملزمان نے بتایا کہ فون پہ بھی باتیں کرتا تھا، فیس بک بھی چلاتا تھا۔ اس نے سمجھایا بھی ایسی نہ کر وہ نہیں سمجھا۔ تین چار دفعہ سمجھایا اس کو وہ پھر بھی باز نہیں آیا۔ وہ پھر اس کو کراچی سے فون کرکے بلایا ہے پھر ہم تینوں چاروں دریا پہ گئے ہیں اور دریا پہ جا کے اسے چرس پلائی اور گلے میں رسی ڈال کر مار دیا اور نہر میں پھینک دیا۔لاوارث لاش کے ورثا کا کئی دن تک پتہ نہ چلا تو پولیس نے تصویر فیس بک پیچ پر اپ لوڈ کر دی۔ کراچی کی خاتون نے انگلیوں میں پہنی انگوٹھی سے بیٹے کو شناخت کرلیا۔ڈی پی او عمر سلامت کے مطابق جب ہم نے انویسٹی گیشن کی تو اس میں یہ معلوم ہوا کہ اس لڑکے کی اپنی کزن کے ساتھ فیس بک کے اوپر اس کی دوستی شروع ہوئی۔ دوستی پیار میں تبدیل ہوگئی۔ جب وہ ملنے آیا تو جو اس لڑکی کا بھائی تھا جو اس کا کزن بھی ہے اس نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ جو سرائے عالمگیر کے علاقے کے رہنے والے ہیں انہوں نے اس اسفند یار کو مار کے اسکی لاش کو دریا میں پھینک دیا۔تین ماہ بعد تینوں ملزمان پولیس کی گرفت میں آگئے۔ لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔

Most Popular