پنجاب میں بچوں کےاغواء کی مبینہ وارداتوں کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے

پنجاب میں  بچوں کےاغواء کی مبینہ وارداتوں کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے

لاہور سمیت پنجاب بھر میں بچوں کے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے شہریوں میں نہ صرف احساس عدم تحفظ پایا جاتا ہے بلکہ لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار بھی ہیں،،، ہیجانی کیفیت کے باعث شہریوں کی جانب سے مفلوک الحال یا مشکوک نظر آنے والے افراد پر تشدد کے واقعات میں بھی ضافہ ہوا ہے۔ ملتان میں شہریوں نے ساٹھ سالہ خاتون کو مبینہ اغواء کار سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جبکہ لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں بھی لوگوں نے کچرا اٹھانے والی خاتون پر اغواء کار کے شبے تشدد کیا۔لاہور کے علاقے دھرم پورہ میں بچے کو ویکسینیشن کے لئے لے جانے والے باپ کو مشتعل شہریوں نے مبینہ اغوا کار سمجھ کر گھیر لیا جس کی پولیس نے جان بخشی کروائی،،، شالیمار میں بیٹے کے ساتھ بازار جا رہی خاتون کو بھی شہریوں نے پیٹ ڈالا گیابچوں کے اغواء کی مبینہ وارداتوں کے بعد احتجاج کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے،،، سڑکوں پر احتجاج کے دوران ٹریفک جام سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاہور میں چند روز قبل مشتعل شہریوں نے ٹائر جلا کر بند روڈ کو تین گھنٹے تک بلاک کیے رکھا،،، بعد ازاں پتہ چلا کہ جس بچے کے اغوا کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے وہ راولپنڈی میں رشتے داروں کے گھر چلا گیا ہے۔ فیصل آباد میں بھی مظاہرین نے بچے کے اغوا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چار گھنٹے سڑک بند رکھی، بعد میں پتہ چلا کہ لاپتہ ہونے والا بچہ پارک کی سیر کر کے شام کو گھر واپس آگیا۔

Most Popular