11 سالہ گھریلو ملازمہ پرتشدد کے الزام میں خاتون اور اس کا بیٹا گرفتار

11 سالہ گھریلو ملازمہ پرتشدد کے الزام میں خاتون اور اس کا بیٹا گرفتار

وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزام میں ایک خاتون اور بیٹے کو گرفتار کرلیا۔دونوں ماں اور بیٹے کو بچی پر تشدد کا مقدمہ درج کرائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی رہائشی 11 سالہ بچی صائمہ کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ گزشتہ روز سامنے آیا۔بچی کی جانب سے اسلام آباد کےرہائشی محمد احمد، اس کی والدہ الماس،بہن آمنہ اور ملازم رشید سمیت دیگر اہل خانہ پر تشدد کے الزامات لگائے گئے تھے۔بچی کے مطابق تمام اہل خانہ انہیں گزشتہ 4 سال سے تشدد اور تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔واقعہ سامنے آنے کے بعد بچی صائمہ اور اس کے والدین کی جانب سے محمد احمد، اس کی والدہ اور دیگر افراد کے خلاف دفعہ 154 کے تحت تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج کرایا گیا۔پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے گھر کے مالک محمد احمد اور اس کی والدہ الماس کو گرفتار کرکے معاملے کی تفتیش کا آغاز کردیا۔مبینہ تشدد سے متاثرہ بچی نے پولیس اور میڈیا کے سامنے الزام لگایا کہ انہیں گزشتہ 4 سال سے گھر جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ، جبکہ اس عرصے کے دوران ان پر تشدد کیا جاتا رہا۔بچی کے مطابق گھر کے تمام افراد گرم چھریوں کے ذریعے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے رہے، جبکہ گھر کا ایک نوکر بھی ان پر تشدد کرتا رہا اور بال بھی کاٹ دیئے گئے۔بچی کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں درج ہے کہ 17 مارچ کو گھر کے مالک محمد احمد نے نماز جمعہ کے لیے جانے سے قبل انہیں گاڑی کی چابیاں دیں، جو انہوں نے ان کی والدہ الماس کے حوالے کردیں، مگر بعد ازاں وہ بھول گئیں اور الزام لگایا کہ میں نے انہیں چابیاں نہیں دیں، جس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔صائمہ نے الزام لگایا کہ گھر میں افشاں نامی ایک دوسری ملازمہ بھی ہے، جسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق بچی اور اس کے والدین کی فریاد پر مقدمہ درج کرکے 2 افراد کو گرفتار کرلیا، جب کہ معاملے کی تفتیش کا آغازکردیا گیا۔

Most Popular