سپریم کورٹ میں ڈاکٹرعاصم کے بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

سپریم کورٹ میں ڈاکٹرعاصم  کے بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

سپریم کورٹ میں ڈاکٹرعاصم کے بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ کیا نیب ملزمان کو چھوڑنے کے لیے پکڑتا ہے۔ نیب نے ڈاکٹر عاصم کی میڈیکل رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا۔ میڈیکل رپورٹس قبول نہیں تو پھر نئی رپورٹ کس سے منگوائیں۔ وکیل نیب ناصر مغل نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم پہلے ویل چیئر استعمال کرتے تھے۔ اب وہ احتساب عدالت میں ویل چیئر کے بغیر پیش ہوتے ہیں۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ میڈیا نے ڈاکٹر عاصم کی ریسلر کی طرح احتساب عدالت میں پیش ہوتے رپورٹ کیا ہوگا۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ نیب جب پک اینڈ چوز کرتا ہے تو حیرانی ہوتی ہے۔ مقدمہ کے شریک ملزم کو کاروبار کے لیے باہر جانے دیا۔ کیا کاروبار کا حق زندگی کے بنیادی حق سے بالاتر ہے۔ احتساب عدالت میں ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا۔ لگتا ہے نیب کیس کو لمبا کرنا چاہتا ہے۔ نیب دل سے کام کرتا تو ابتک کیس ختم ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنی ساکھ کو خراب کیا ہے۔ اداروں کو تباہ نہ کریں۔

Most Popular