احمد شہزاد نے بورڈ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا

Sep 01, 2018 | 16:22

 سابق اوپنر احمد شہزاد نے بورڈ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، ڈوپنگ کیس میں وہ قانونی جنگ نہ لڑتے ہوئے سزا کومان لیں گے۔ٹیسٹ اوپنر احمد شہزاد کا ڈوپ ٹیسٹ3 مئی کو فیصل ا?باد میں پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کے دوران لیا گیا تھا۔ پی سی بی نے اس معاملے میں غیرمعمولی تاخیر برتی، پھر ممنوعہ دوا کا استعمال ثابت ہونے پر انھیں اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت10جولائی کوچارج شیٹ جاری کرتے ہوئے معطل کر دیا گیا۔اوپنر نے ”بی“ سیمپل ٹیسٹ کرانے سے گریز کیا اور حکمران جماعت پی ٹی ا?ئی کے رہنما بابر اعوان کی بطوروکیل خدمات حاصل کر لیں، بورڈ نے احمد شہزاد کو مشورہ دیا کہ سزا قبول کرنا ان کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اگر انھوں نے غلطی تسلیم نہ کرتے ہوئے کیس لڑنے کا فیصلہ کیا تو پابندی کا دورانیہ 4 سال بھی ہو سکتا ہے مگر اوپنر کا اصرار تھا کہ اس سے وہ کئی لیگز نہیں کھیل سکیں گے اور کروڑوں روپے کا نقصان ہو جائے گا لہذا ایک ماہ کی علامتی سزا دے کر معاملہ ختم کیا جائے۔
پی سی بی نے انھیں سمجھایا کہ اگر ایسا ہوا تو ا?ئی سی سی اور واڈا اسے چیلنج کر سکتے ہیں، ویسے بھی احمد شہزاد نے ڈوپ ٹیسٹ کیلیے سیمپل دیتے ہوئے یہ جواز اختیار کیا تھا کہ کوئی دوا نہیں کھائی مگر پھر سماعت میں غلطی سے ایک گولی کھانے کا تسلیم کیا۔ اس غلط بیانی نے انھیں زیادہ مشکل میں پھنسا دیا۔ذرائع نے بتایا کہ اب احمد شہزاد نے قانونی جنگ نہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بورڈ کو بتا دیا ہے کہ جو بھی سزا ملی وہ انھیں قبول ہو گی، یوں اب نئے چیئرمین کی صوابدید پر ہوگا کہ وہ انھیں ایک ماہ سے ایک سال کے دوران تک پابندی کی سزا سنائیں،البتہ انھیں یہ پہلو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ کم سزا کوکہیں ا?ئی سی سی اور واڈا نہ چیلنج کر دیں، نئے چیئرمین احسان مانی ممکنہ طور پر4 ستمبر کو عہدہ سنبھالیں گے، اس بات کا امکان روشن ہے کہ پہلے ہی ہفتے میں وہ کیس کا فیصلہ سنا دیں گے۔
واضح رہے کہ احمد شہزاد نے پی سی بی حکام کے سامنے پیشی پر کہا تھا کہ سر درد اور متلی کی شکایت پر اہلیہ نے غلطی سے ایسی دوا کھلا دی جس سے ڈوپ ٹیسٹ مثبت ا? گیا، اوپنر کی ایک قریبی شخصیت کینسر میں مبتلا ہیں، ان کے ڈاکٹر نے بھی بورڈ کو بتایا تھا کہ وہ جو دوا استعمال کرتی ہیں اس میں ممنوعہ جز بھی شامل ہوتا ہے، وہ گولی احمد نے غلطی سے کھا لی تھی۔دوسری جانب درحقیقت احمد شہزاد کے ٹیسٹ سے ”ماروانا“ کا استعمال ثابت ہو گیا تھا، اس کی مقدار بہت زیادہ اور ایسا ہرگز نہیں تھا کہ ایک ہی بار غلطی سے استعمال ہوا ہو۔ انہی وجوہات کی بنا پر اوپنر نے اپنے حق میں بہتر یہی سمجھا کہ خاموشی سے سزا کو تسلیم کر لیا جائے۔

مزیدخبریں