(آئی جی)سندھ جاوید سلیمی نے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاہ میں زیرِ تعلیم طالبہ کو پروفیسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا نوٹس لے کر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

Sep 03, 2018 | 15:11

شہید بے نظیر آباد یونیورسٹی کے شعبہ انگلش کی فائنل ایئر کی طالبہ فرزانہ جمالی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ انگلش ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر عامر علی خٹک 5 ماہ سے اسے ہراساں کر رہے ہیں اور موبائل نمبر مانگ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرزانہ جمالی نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے پروفیسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی بات اپنے والد صاحب کو بتائی تو انہوں نے وائس چانسلر سے ملنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے پہلے تو ملنے سے انکار کردیا اور بعد میں ان کے والد سے کہا کہ اس معاملے کو یہیں پر دبا دیں۔ فرزانہ جمالی نے الزام لگایا کہ جب ان کے والد اعجاز جمالی نے وائس چانسلر سے شکایت کی تو اُن کے والد کو پولیس کے ذریعے گرفتار کرا دیا گیا۔ طالبہ نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ 'میرا تعلیمی ریکارڈ اتنا اچھا ہے، میں نے ایف پی ایس سی کا اسکریننگ ٹیسٹ دیا، جس میں 43 میں سے بمشکل 10 طلباء پاس ہوئے، جن میں سے ایک میں ہوں جبکہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں میری سیکنڈ پوزیشن ہے'۔ ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ 'ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟' فرزانہ جمالی نے مزید کہا کہ 'میرا مطالبہ یہ ہے کہ مجھے کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے اور میرے بابا کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کیوں کٹوائی گئی ہے'۔ طالبہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی نے ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان کے مطابق طالبہ کی شکایت پر 3 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

مزیدخبریں