فحش ویب سائیٹ برطانیہ میں بچوں کی جنسی بے راہ روی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ برطانوی وزیر داخلہ

Sep 05, 2018 | 12:48

برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد کو بچوں کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے ان کی اس مواد تک رسائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔نیشنل آرگنائزیشن برائے تحفظ اطفال کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے انٹرنیٹ کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 80 ہزار فحش ویب سائیٹ برطانیہ میں بچوں کی جنسی بے راہ روی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہانہوں نے اپنے طور پرگوگل، فیس بک، مائیکرو سافٹ اور ٹویٹر کو بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کے لیے کوشش کی ہے۔ ان فورمز پر نہ صرف فحش مواد بلکہ دہشت گردی سے متعلق مواد بھی موجود ہے جو ہمارے بچوں کے لیے خطرناک ہے۔ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ بچوں کا جنسی استحصال روکنے کی ان کی مہم میں دیگر ادارے اور عالمی کمپنیاں بالخصوص انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں ان کی ہم آواز بنیں گی۔واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے انٹرنیٹ پر جرائم کی روک تھام کے لیے آئندہ 18 ماہ کے دوران 21.5 ملین آسٹریلوی پاونڈ کی رقم صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزیدخبریں