سرفراز رفیقی شہید ایسی شجاعت ،دلیری اور حب الوطنی کی روشن مثال ثابت ہوئے۔

Sep 07, 2018 | 12:01

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے وطنِ عزیز کی عزت و حرمت و تقدس پر ہونے والے دشمن کے ہر وار کو کچل کر رکھ دیا۔ سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی میں غیرت و حمیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی، یکم ستمبر انیس سو پینسٹھ کو سر فراز احمد رفیقی نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے دو بھارتی ویمپائر طیاروں کو نشانہ لے کر ڈھیر کردیا۔
چھ ستمبر انیس سو پینسٹھ کو دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسکواڈرن لیڈر سر فراز احمد رفیقی کی قیادت میں تین طیاروں کا دستہ سرگودھا سے بھارتی ہوائی اڈے ہلواڑہ کو نشانہ بنانے کے لئے اڑا۔ یہ دستہ شام کی ڈھلتی ہوئی روشنی میں سرحد عبور کر گیا، واپسی پر ایم ایم عالم نے رابطہ پر فضا میں موجود دشمن کے لاتعداد طیاروں کی موجودگی سے خبردار کیا مگر سرفروشوں کی یہ جماعت ہلواڑہ جا پہنچی۔دشمن کے دس لڑاکا ہنٹر طیارے ان پر ٹوٹ پڑے، سر فراز احمد رفیقی نے دو ہنٹر طیاروں کو دیکھ کر اُن کے عقب میں جا کر اُن کے قائد کو نشانہ پر لیا، دشمن کے طیارے جب سر فراز احمد رفیقی کی زد میں تھے تو انہیں معلوم ہوا کہ اُن کی گنیں جام ہو چکی ہیں۔ سر فراز احمد رفیقی نے راہ فرار اختیار کرنے کی بجائے اپنے ساتھی کمانڈ لیفٹننٹ سیسل چودھری کو سونپ کر خود سیسل کو عقب سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے چلے گئے، جب سیسل دشمن کے طیارے گرا رہے تھے تو دشمن نے سر فراز احمد رفیقی کے طیارے کو نشانہ بنا ڈالا۔ جس کے بعد سر فراز احمد رفیقی نے جام شہادت نوش کیا۔ اسکواڈرن لیڈر سر فراز احمد رفیقی کی بے مثال جرأت پر حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ جرأت سے نوازا۔

مزیدخبریں