جموں و کشمیر میں منصوبہ بند ی سے فوجی کارروائی میں شہری قتل کی جارہے ہیں۔ سید علی گیلانی

Sep 07, 2018 | 13:47

کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کو عملاً ایک پولیس اسٹیٹ بنایا گیا ہے، جہاں حریت پسند سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد کی گئی ہیں، جوکہ قابل مذمت ہے۔ گیلانی نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ریاستی عوام کے انسانی، سیاسی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے بھارت کے قابض حکمرانوں پر اپنا سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ علی گیلانی نے بھارت کی قابض افواج اور انتظامیہ کے ہاتھوں ریاست جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو تعصب اور نفرت کی بناء پر مالی اور جانی نقصان پہنچانا کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ڈوگری پورہ پلوامہ میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے ایک شبانہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ کمانڈر لطیف احمد ڈار عرف ٹائیگر کے مکان کو زمین بوس کرنا اور مکینوں کا زدوکوب کرنے کو ایک بزدلانہ کارروائی سے تعبیر کرتے ہوئے حریت راہنما نے قابض افواج کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ نہتے اور معصوم عوام کے خلاف ایک منصوبہ بند طریقے سے فوجی کارروائیاں عملانے میں گھناؤنی کارروائیوں کا ارتکاب کررہے ہیں۔ حریت راہنما نے حزب سربراہ سید صلاح الدین کے دونوں فرزندوں سید شاہد یوسف اور سید شکیل یوسف کی NIAکے ہاتھوں گرفتاریاں دراصل اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس میں بھارت کی قابض افواج عسکریت پسندوں پر اپنا فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے ان کے آل وعیال اور دیگر نزدیکی رشتہ داروں کو جابرانہ کارروائیوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ حریت راہنما نے ریاست جموں کشمیر میں عسکری محاذ پر سرگرم جوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی موجودگی بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ قرار دینے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا یہاں کے نوجوانوں کا کوئی شوق نہیں۔ حریت راہنما نے سول آبادی کے خلاف جنگی کارروائیاں عملائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو کوئی بھی جنگی قانون ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ حریت راہنما نے بونیار اوڑی میں 9برس کی کمسن بچی مسکان کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جانا ایک مہذب سماج کے لیے ناقابل برداشت سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حریت راہنما نے اس افسوسناک سانحہ پر اپنے گہرے دُکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کٹھوعہ کی آصفہ اور بونیار کی مسکان کا جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے کے بعد بہیمانہ طور قتل ہونا انسانی سماج اور قانون نافذ کرنے والے نام نہاد اداروں اور انتظامیہ کے لیے ایک تازیانۂ عبرت ہے۔ حریت راہنما نے ان بدترین سانحات پر خون کے آنسو بہانے کی آرزو کا شدّت کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کا وقوع پذیر ہونا لاقانونیت اور وحشیانہ پن کی انتہا ہے۔ حریت راہنما نے ان سانحات میں ملوث مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے حریت پسند عوام کو سماج سدھار کمیٹیوں کے ذریعے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے راہ روی، بے حیائی، منشیات کی لت اور دیگر اخلاق سوز حرکات میں ملوث افراد پر کڑی سے کڑی نظر رکھتے ہوئے اپنے معاشرے کو اخلاقی پستیوں میں گرنے سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ حریت راہنما نے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا غلامانہ زندگی گزارنے کے ساتھ براہِ راست تعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجی برائیوں اور بھیانک جرائم کے پھیلاؤ میں قابض حکمرانوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حریت راہنما نے پلوامہ میں قابض فورسز کے ہاتھوں ایک غیر ریاستی مزدور 17برس کے سریش کمار کی ہلاکت پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض فورسز کی طرف سے اندھا دھند گولی باری کے نتیجے میں سول آبادی کی ہلاکتوں میں آئے روز اضافہ ایک تشویشناک رُخ اختیار کرگیا ہے جس کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ حریت راہنما نے قابض انتظامیہ کے ہاتھوں حریت پسند راہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حربوں سے تحریک حقِ خودارادیت کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم لیگ کے صدرِ ضلع پلوامہ محمد امین ڈار کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کو بلاجواز کارروائی قرار دیتے ہوئے حریت راہنما نے حالیہ ایام میں حریت کانفرنس کے ارکان کی گرفتاریوں میں تشویشناک اضافہ کیا گیا ہے۔ منظور احمد للہار کے گھر پر پولیس کی شبانہ چھاپہ مار کارروائی اور وہاں املاک کی توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے حریت راہنما نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو عملاً ایک پولیس اسٹیٹ بنایا گیا ہے، جہاں حریت پسند سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد کی گئی ہیں، جوکہ قابل مذمت ہے۔ حریت راہنما نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ریاستی عوام کے انسانی، سیاسی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے بھارت کے قابض حکمرانوں پر اپنا سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

مزیدخبریں