آئین کے طریقہ کار کے تحت ہی کسی قانون کو کالعدم کیاجاسکتاہے۔ چیف جسٹس

08 فروری 2018 (18:07)

سپریم کورٹ نے الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہاہے کہ قانون میں گنجائش ہے کہ نااہل شخص پارٹی صدربن سکتاہے اور پارٹی سربراہ کااثررسوخ ہوتاہے لیکن ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کومدنظر رکھ کر کس حد تک جاسکتے ہیں پارلیمنٹ قانون سازی کاسپریم ادارہ ہے مسلم لیگ ن کے آئین کے تحت پارٹی صدر کووسیع اختیارات ہیں ۔یہاںمیاں نواز شریف کی نہیں بلکہ پارٹی سربراہ کی بات ہورہی ہے کیا فوجداری الزام میں سزا یافتہ جیل سے پارٹی چلا سکتاہے جیل سے قیدی کا باہر رابطہ بھی نہیں ہوتا صرف نااہلی نہیں دیگر معاملات کو بھی فیصلے کے وقت مدنظر رکھیں گے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 کیس کی سماعت کاآغاز کیا تو بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کاعمل کاغذات نامزدگی سے شروع ہوتاہے اگرکوئی شخص نااہل ہوگاتوکاغذات نامزدگی مسترد ہوجائیں گے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ضروری نہیں پارٹی سربراہ الیکشن میں امیدوار ہو لیکن یہ بتائیں قانون کاسیکشن 203 آئین سے متصادم کیسے ہے کیاایسی کوئی مثال موجود ہے کہ منسوخ قانون کے سیکشنز نئے قانون میں شامل کیے گئے ہوں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ الیکشن ایکٹ 2017 بہت سے قوانین کا مجموعہ ہے. جس میں دیگر قوانین کو بھی شامل کر دیا گیا ہے بابر اعوان نے کہاکہ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی سربراہ اہم کردار ادا کرتا ہے.اس دوران چیف جسٹس نے کہاکہ اس حوالے سے فروغ نسیم واضح دلائل دے چکے ہیں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کا سرٹیفکیٹ بھی الیکشن کمیشن کو پارٹی سربراہ جمع کروائے گا اورپاناماکیس میں عدالتی فیصلے کا اثر ختم کرنے کے لئے سیکشن 203 شامل کیا گیا۔پانامہ فیصلہ کے بعد نا اہلی ختم کرنے کی بات شامل کی گئی۔مسلمان کی تعریف سے متعلق قانون میں تبدیلی کر دی گئی۔جب تعریف تبدیل کونے پر شور و غل ہوا تو ترمیم لائی گئی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹی میں مجوزہ قانون میں سیکشن 203 شامل تھا۔کمیٹی کے بل پر تمام سیاسی جماعتوں نے رضا مندی کا اظہار کیا۔اس دوران دستاویزات بھیجے جانے کے معاملہ پر چیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل آفس براہ راست ہمیں کیسے بھیج سکتے ہیں.ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ جناب کی معاونت کے لیے بھوائی گئیں ۔ جس پر چیف جسٹس نے رانا وقارکو ہدایت کی کہ الیکشن ایکٹ قانون سے متعلق دستاویزات طریقہ کار کے مطابق جمع کروائیں،چیف جسٹس نے بابراعوان سے کہاکہ عدالتی فیصلے کی مثال دیں کہ کسی شخص کے لیے قانون بنایاگیااورپھرعدالت نے شخصیت کے فائدے کے لیے بنائے قانون کوکالعدم قراردیاہو۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کے طریقہ کار کے تحت ہی کسی قانون کو کالعدم کیاجاسکتاہے جس پر بابراعوان نے کہاکہ ملک میں اس وقت منفرد صورتحال ہے پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر شخصیت کے لیے قانون بنایاگیاچیف جسٹس نے پھر سوال اٹھائے کہ کیاعدلیہ نے کسی شخصیت کے لیے بنائے قانون کو کالعدم کیا؟کیاعدالت نے ایسے کسی قانون کوبدنیتی پرکالعدم قراردیا؟کیا آئینی اسکیم پرکسی قانون کے سیکشن کوکالعدم کیاگیا؟بابر اعوان نے کہاکہ کابینہ میں ردوبدل امیدوار کے لیے وزیراعظم کاانتخاب پارٹی سربراہ نے کرناہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ قانون میں گنجائش ہے کہ نااہل شخص پارٹی صدربن سکتاہے اور پارٹی سربراہ کااثررسوخ ہوتاہے لیکن ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کومدنظر رکھ کر کس حد تک جاسکتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ قانون سازی کاسپریم ادارہ ہے چیف جسٹس نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے آئین کے تحت پارٹی صدر کووسیع اختیارات ہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ یہاں میاں نواز شریف کی نہیں بلکہ پارٹی سربراہ کی ہورہی ہے سوال یہ ہے کہ کیا فوجداری الزام میں سزا یافتہ جیل سے پارٹی چلا سکتاہے جیل سے قیدی کا باہر رابطہ بھی نہیں ہوتا چیف جسٹس نے کہاکہ صرف نااہل نہیں دیگر معاملات کو بھی فیصلے کے وقت مدنظر رکھیں گے۔انہوں نے بابراعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے مطابق آرٹیکل 5کے تحت ہرشخص ریاست سے وفاداری کاپابند ہے اور آپ کے مطابق جو شخص آئین سے وفادار نہیں وہ ریاست سے وفادار نہیں اور آپ کے مطابق ایسا شخص پارٹی سربراہ بھی نہیں بن سکتا ۔ بعدازاں عدالتی وقت ختم ہونے پر کیس کی سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔