جدید دورمیں ہاتھ سے بنے قالینوں کی مانگ میں کمی آئی تو اس کی جگہ جدید مشینوں تیارکیے جانے والے قالینوں نے لے لی

09 فروری 2018 (07:11)

دلکش شوخ رنگوں کے قالین گھرکی خوبصورتی کو چارچاند لگا دیتے ہیں،،دورجدید میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی مانگ میں کمی آئی،،توان کی جگہ جدید مشینوں سے تیارکیے گئے قالینوں نے لے لی جوکہ اپنی باریک بینی اور دلکشی کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکزبنتے ہیں۔افغانی اورایرانی قالینوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تیارکردہ رنگ برنگے اوردیدہ زیب قالینوں کی اپنی الگ پہچان ہے جو دنیا بھرمیں پسند کیے جاتے ہیںقالین سازی کی صنعت نے ملکی زرمبادلہ میں بھی اہم کردارادا کیا ہے۔ہرسال کروڑوں ڈالرکے قالین امریکہ سمیت دیگرممالک میں برآمد ہوتے ہیں،،شہریوں کا کہنا ہے کہ دورجدید میں خوبصورت پتھروں سے یوں توگھرکی سجاوٹ کی جاتی ہے مگراس کے باوجود قالین کی اہمیت کم نہیں ہوئیقالین سازی کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث لوگ ہاتھ سے بنے قالینوں کی بجائے مشینوں کے بنے قالین خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث ہاتھ سے بنے قالینوں کی گھریلوانڈسٹری متاثر ہورہی ہے

لیون لوپ،،سلک،،شیگی،،پرچھین،،کٹ ورک اوربہت سے قالین دکانوں کی رونق کوبڑھارہے ہیں،قالین سازی کی صنعت کوترقی دی جائے توبین الاقوامی سطح پرپاکستان کو فائدہ ہوگا