نیب نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور غیرقانونی بھرتیوں پر سترہ نئے کیس کھولنے کی منظوری دیدی

12 فروری 2018 (22:46)

اسلام آباد میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیرصدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ جس میں مختلف شخصیات اور محکموں سےمتعلق سترہ نئی انکوائریوں کا فیصلہ کیا گیا۔ ان شخصیات اور اداروں پر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے اورغیرقانونی بھرتیوں جیسے الزامات شامل ہیں۔ سابق چیئرمین سائنس فاؤنڈیشن کیخلاف غیرقانونی بھرتیوں اور سی ڈی اے افسران کے خلاف پلاٹس کی سستے داموں فروخت کے معاملات کی بھی تحقیقات ہوں گی۔ راحیلہ مگسی کے خلاف رقوم کی مشتبہ منتقلی کی انکوائری بھی ہوگی۔نیب بورڈ نے پشاور کے کالج،محکمہ کسٹمزاور خیبر بنک سے متعلق نئی انکوائریاں شروع کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ پنجاب کے ڈی جی اینٹی کرپشن کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کی انکوائری بھی ہوگی۔ نیب بورڈنےزیرتحقیقات دومقدمات احتساب عدالت میں دائرکرنے اور پہلے سے جاری چارانکوائریوں کو باقاعدہ تحقیقاتی شکل دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ان تحقیقات میں جامعہ ولی خان کے دو کیس بھی شامل ہیں۔دوسری جانب نیب بورڈ نے پہلے سے جاری انکوائریوں میں سے چار کو ختم کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔چیئرمین نیب نے تفتیشی افسران کو ہدایت کی ہے کہ ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تحقیقات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں