کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ سردار مسعود خان

14 فروری 2018 (17:16)

صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ یہ ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اگرچہ کشمیر لہو لہان ہے اور ہندوستانی مظالم حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ وہ پوری ہمت اور جذبے سے اپنی حق خودارادیت کے حصول کی تحریک کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے عزم اور حوصلے میں کوئی لغزش نہیں آئی ۔ ہم حریت کانفرنس کے رہنمائوں کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے ایک وفد سے ایوان صدر کشمیر ہائوس میں ملاقات کے دوران کیا ہے۔ وفد کی قیادت حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء و چیئرمین جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ ظفراکبر بٹ کررہے تھے۔ صدر آزاد کشمیر نے کشمیری رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مغربی دنیا ہندوستان سے معاشی اور تجارتی معاہدوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر مصلحت کا شکار ہے۔ وہ سچ کو سچ کہنے کے بجائے اور ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر کے نہتے لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم رکھے جانے سے روکنے اور باز رکھنے سے قاصر ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آج ہندوستان امریکہ اور مغربی دنیا کو یہ جھانسہ دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ چین کا راستہ روک رہا ہے ۔ حالانکہ یہ یکسر مکاری اور فریب کاری ہے۔ صدر نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ایک سابق ہندوستانی وزیر چندھم برھم اور منی شنکرآیار نے بھی مودی کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کو اپنی کشمیر پالیسی ترک کرنی ہوگی اور کشمیریوں سے مذاکرات کرنے ہونگے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ انہوں نے برطانوی ہائوس آف لارڈ میں بھی کھڑے ہو کر یہ کہا کہ ہم کشمیری آزادی کی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں اور یہ حق ہمیں اقوام عالم نے حق خودارادیت کی صورت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے دے رکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ آج ہندوستان مقدمہ کشمیر کو پوری دنیا میں جس مکارانہ طریقے سے پیش کر رہا ہے ہمیں بھر پور طریقے سے اس کا موثر جواب دینا ہو گا۔ ہندوستان "مارو اور پھر خود ہی رونا شروع کر دو"کی پالیسی پر گامزن ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیں اپنی صفوں میں مزید اتحادو اتفاق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بانت بانت کی بولیاں بولنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔اور دو طرفہ مذاکرات کی بے کار مشق سے باہر نکل کر ایک دفعہ پھر اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانہ ہو گا۔ اور اقوام عالم بالخصوص اہل مغرب اور امریکہ کو یہ باور کرانا ہو گاکہ مسئلہ کشمیر کا حل بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے ۔ اور تارکین وطن کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کوبین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نئے ذرائع ابلاغ کے استعمال کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔ وفد نے صدرآزاد کشمیر سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں صورتحال بگڑ رہی ہے ۔ گھروں اور پوری پوری بستیوں کو جلایا جاتا ہے۔ خواتین پر بھی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کی آبروریزی کی جاتی ہے۔ لیکن ان سب مظالم کے باوجود کشمیر کے لوگ آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیری آزادکی کی خاطر اپنا لہو دینے سے نہیں تھکتے تو پھراہل پاکستان اور پوری دنیا میں کشمیریوں کو کسی قسم کی عزیمت اور شکست خوردگی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور ان کے قلم آزادی کی تحریک کو اجاگر کرنے کے لیے نہیں تھکنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر کے چپے چپے سے نوجوان اور بچے بھی یہ نعرہ بلند کررہے ہیں" کہ پاکستان سے رشتہ کیا - لا الہ الا اللہ" - "ہم لے کے رہیں گے آزادی" "-ہے حق ہمارا آزادی"۔ اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔اور ہندوستانی دبدبے کے آگے کبھی نہیں جھکیں گے۔