ایف بی آر کی جانب سے بیرون ممالک منتقل رقوم کی واپسی پر بے بسی کا اظہار کر دیا گیا

14 فروری 2018 (21:01)

سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور املاک سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، ایف بی آر نے بیرون ممالک منتقل رقم کی واپسی پر بے بسی کا اظہار کردیا۔ سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی ، ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پاناما اور دیگر لیکس میں نام آنے والوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ پیشہ ورانہ رویے اور خلوص نیت سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ مختلف وجوہات کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتے۔ ایف بی آر نے بتایا کہ رقم کی واپسی اور احستاب کے مطلوبہ نتائج کی راہ میں قانون میعاد کی قدغنیں حائل ہیں۔ بیرون ممالک کے ساتھ معلومات کی فراہمی کا لیگل فریم ورک بھی موجود نہیں۔ قانون میعاد کی قدغن کو ترمیم سے دور کیا جا سکتا ہے, لیگل فریم ورک کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے ٹریٹیز کر رہے ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ یکم جولائی 2011 سے پہلے کی سرمایہ کاری پر تحیقات اور کارروائی کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ یو اے ای میں جائیدادیں خریدنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی شروع ہے