ماضی میں اس حقیقت کو پرویز مشرف، جنرل محمود درانی رحمان ملک اور جنرل پاشا نے بھی تسلیم کیا:نوازشریف

مئی 14, 2018 | 10:27

سابق وزیرنواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے دوران غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ میرے بیان میں کونسی غلط چیز ہے۔ میں نے پوچھا تھا کہ دہشتگرد ایک سو پچاس لوگوں کو مارنے کیوں گئے تھے۔ مجھے اسکا جواب چاہیے۔ ماضی میں اس حقیقت کو پرویز مشرف سمیت جنرل محمود درانی نے تسلیم کیا۔ رحمن ملک اور جنرل پاشا نے بھی اسے تسلیم کیا ۔ انکا کہنا تھا کہ غیر ریاستی عناصر جہاں سے گئے انکا مقدمہ مکمل کیوں نہیں ہو سکا۔ ممبئی ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کا بیانیہ سننے کو تیار نہیں۔ میں نے دہشتگردی کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنا کیا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مسلح افواج,جوانوں اور شہریوں نے بہت قربانیاں دیں۔ جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا ملک کو ترقی کی طرف لیکر گیا اسے غدار کہلایا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ کیا محب وطن وہ ہے جنہوں نے انیس سو اکہتر میں پاکستان کو توڑا۔ کیا محب وطن وہ ہے جنہوں نے آئین توڑا,اندرونی لڑائیوں کو ہوا دی ججوں کو نکال باہر پھینکا۔ حق کی بات کرتا ہوں چاہیے کچھ بھی سہنا پڑئے۔ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے اس نے پاکستان میں جاسوسی کی۔

مزیدخبریں