سپریم کورٹ کی سیمنٹ فیکٹریوں کو زمینی پانی استعمال کرنے کی بجائے متبادل انتظام کرنے کی ہدایت

Aug 16, 2018 | 16:56

سپریم کورٹ نے سیمنٹ فیکٹریوں کوزمینی پانی استعمال کرنے کی بجائے پانی کا متبادل انتظام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بیسٹ وے فیکٹری کے سربراہ اور انتظامیہ کو طلب کرلیا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چکوال میںسیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے پانی کے مفت استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی سماعت کی تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری اربوں روپے کا پانی مفت پانی استعمال کررہی ہے لیکن پانی کے استعمال کی مد میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا ۔پاکستان میں پانی کی قلت ہے چکوال میں پانی کا قحط پڑ گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ غالبا بیسٹ وے والے بڑے لوگ ہیں کہ مسلسل عدالتی احکامات کی حکم عدولی کر رہے ہیں عدالت سے تعاون ہی نہیں کیا جارہا ان کامزید کہنا تھا کہ بیسٹ وے کیساتھ مقامی انتظامیہ بھی ملی ہوئی ہے کل بیسٹ وے کے سربراہ اور اعلی انتظامیہ پیش ہو ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سیمنٹ فیکٹریوں کو 20,20کروڑ پانی کے واجبات کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔ روزانہ کا معلوم نہیں کتنے کیوسک پانی استعمال ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ایک ماہ کے اندر پانی کی قیمت ادا کریں یا فیکٹریاں بند کر دیں گے۔چکوال کی لوکل آبادی کو قدرتی چشموں سے محروم نہیں کر سکتے اس لئے سیمنٹ فیکٹریاں اپنے متبادل پانی کا بندوبست کریں۔بعدازاں کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔

مزیدخبریں