عمران خان کیخلاف واویلا: بھارتی میڈیا کو بڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ترجمان دفترخارجہ

Aug 16, 2018 | 17:23

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف واویلا کرنے پر بھارتی میڈیا کو بڑے ہونے کا مشورہ دے دیا۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے عمران خان کے خلاف بھارتی میڈیا کے واویلا پر تبصرہ کیا اور کہاکہ بھارتی میڈیا کو بڑے ہوجانے کی ضرورت ہے۔بھارتی ہائی کمشنر کیساتھ عمران خان کی ملاقات پر ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ عمران خان سے بھارتی ہائی کمشنر کی ملاقات میں دفتر خارجہ کا تعاون شامل تھا۔ عمران خان کیخلاف بھارتی میڈیا کے واویلا پرترجمان دفتر خارجہ نے مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی میڈیا کو بڑا ہوجانے کی ضرورت ہے اوریہی ہیڈ لائن ہے،ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کی موجودگی بھارتی وزیراعظم کے دعووں کی نفی ہے تاہم پاکستان کلبھوشن کیس عالمی عدالت انصاف میں لڑے گا۔اس دوران انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے 5 مزید شہری شہید ہوچکے ہیں جب کہ حریت رہنماوں کی جیل میں صحت سے متعلق خبروں پر تشویش ہے۔۔ انھوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے مطالبہ کیاکہ بھارت فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرے۔ انھوں نے مزید کہاکہ مودی حکومت اقوام متحدہ کے مبصرین کو لائن آف کنٹرول کے دورے کی اجازت دے تاکہ عسکریت پسندوں کی دراندازی سے متعلق بھارتی الزامات کی قلعی کھل جائے گی۔ترجمان نے وضاحت دی کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت سے آگاہ ہیں ،اس سے نمٹنا بھی جانتے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں اور شہریوں کیخلاف بھارتی کارروائیاں روکنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔۔ ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ سارک اجلاس طویل عرصہ سے التوا کا شکار ہے، پاکستان اجلاس کے انعقاد کیلئے تیار ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا تعلقات کی بنیاد پر ہے تاہم پاکستان سعودیہ سمیت کینیڈا کی سفارتی کشیدگی کو مانیٹر کر رہا ہے۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کے وفد سے وزارت خزانہ کے حکام کام کررہے ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ امریکا سے فوجی تربیت کا پروگرام معطل ہوگیا ہے اور اس معاملے پربات چیت جاری ہے،ایک سوال پر ترجمان نے غزنی میں حالیہ دہشت گردی حملے میں پاکستان سے عناصر کے ملوث ہونے سے متعلق افغان حکام کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، انہوں نے کہاکہ بے بنیاد الزامات کے ثبوت کیلئے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔پاکستان بار بار کہہ رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات ہی ہیں ۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں عید الاضحی کے موقع پر جنگ بندی کا خیر مقدم کیاگیا۔ انھوں نے مزید کہاکہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل دو سال میں مکمل ہوگا۔ باڑ لگانے کا بنیادی مقصد لوگوں اور اشیا کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ روکنا بھی باڑ لگانے کا بڑا مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ، افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن جلد اورمکمل واپسی کے لئے محدود وقت میں واپسی کے منصوبے کی تیاری کیلئے رابطے میں ہیں۔ 

مزیدخبریں