شہبازشریف اب تک 6 بارممبر پنجاب اسمبلی، 4ربار ممبرقومی اسمبلی، 3 بار وزیراعلٰی پنجاب اور 3 بار پارٹی صدر بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

Aug 17, 2018 | 09:20

شہبازشریف ملکی تاریخ کے منفرد سیاستدان ہیں جو اپنی سیاست کے آغاز سے اب تک پارلیمانی اور پارٹی سیاست پر چھائے رہے ہیں۔شہبازشریف تئیس ستمبر انیس سو اکاون کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمدشریف اپرمڈل کلاس کاروباری شخصیت اور صنعتکار تھے۔ جو بیسویں صدی کے آغاز اور تقسیم ہند سے پہلے کشمیر کے علاقے اننت ناگ سے ہجرت کرکے امرتسر کے گاؤں جاتی عمرا چلے گئے۔ انیس سو سینتالیس میں پاکستان وجود میں آیا تو شہبازشریف کے والدین امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں شفٹ ہو گئے۔ شہبازشریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ جس کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار اتفاق گروپ سے وابستہ ہو گئے۔ شہبازشریف انیس سو پچاسی میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر منتخب ہوئے۔ انیس سو تہتر میں اپنی کزن نصرت شہباز کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور دوہزار تین میں تہمینہ درانی سے دوسری شادی کی۔

شہبازشریف نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز انیس سو اٹھاسی میں کیا۔ اور اسلامی جمہوری اتحاد کے بینر تلے انتخابات میں حصہ لیکر لاہور کے حلقہ پی پی ایک سو بائیس سے پہلی بار پنجاب اسمبلی کے ممبر بنے۔ انیس سو نوے میں این اے چھیانوے اور پی پی ایک سو چوبیس، انیس سو ترانوے میں این اے چھیانوے اور پی پی ایک سو پچیس سے کامیاب ہوئے۔ انیس سو ستانوے میں ایک بار پھر این اے چھیانوے اور پی پی ایک سو پچیس سے کامیاب سمیٹی اور پہلی وزیراعلٰی پنجاب کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے اس دور کا خاتمہ انیس سو ننانوے کی فوجی بغاوت سے ہوا۔ جس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب خودساختہ جلاوطن ہو گئے۔ جلاوطنی کے دوران ہی انہوں نے پارٹی صدر کا منصب سنبھالا اور پھر دوہزار سات میں واپس آئے۔

شہبازشریف کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ دوہزار آٹھ کے عام انتخابات میں ماورائے عدالت قتل کیس کی وجہ سے حصہ نہ لے سکے۔ اسی سال وہ کیس سے بری ہوئے اور پی پی اڑتالیس سے کامیابی حاصل کر کے دوسری بار وزیراعلٰی پنجاب بنے۔ لیکن مشکلات نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ پچیس فروری دوہزار نو کو سپریم کورٹ نے انہیں پنجاب اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار دیدیا۔ یکم اپریل دوہزارنو کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ نے اپیکس کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قراردیا جس کے بعد شہبازشریف وزیراعلٰی پنجاب کے عہدے پر بحال ہو گئے۔دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں پی پی ایک سو انسٹھ، پی پی ایک سو اکسٹھ، پی پی دوسو سینتالیس اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو انتیس سے کامیاب ہوئے۔ پی پی ایک سو انسٹھ کی نشست پاس رکھی اور تیسری بار بلامقابلہ وزیراعلٰی پنجاب بنے۔ دوہزارسترہ میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد ان کا نام وزیراعظم کے طور پر لیا جاتا رہا لیکن قرعہ فال شاہد خاقان عباسی کے نام نکلا۔

مونتاج

شہبازشریف پارلیمان اور ملکی سیاست کے بڑے کھلاڑی ہیں۔ وہ اب تک چھ بار ممبر پنجاب اسمبلی، چاربار ممبر قومی اسمبلی، تین بار وزیراعلٰی پنجاب اور تین بار پارٹی صدر بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کے کندھوں پر عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو کامیاب کرانے کی ذمہ داری ہے۔ جس کے بعد ممکنہ طور پر وہ وزیراعظم کے امیدوارہیں۔

مزیدخبریں