سب سے پہلے ملک و قوم کو لوٹنے والوں کے خلاف کڑا احتساب کروں گا، جبکہ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا, نومنتخب وزیراعظم عمران خان

Aug 17, 2018 | 21:58

نومنتخب وزیراعظم عمران خان کا پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستانی قوم ستر برس سے تبدیلی کا انتظارکررہی تھی، قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جس کے لیے قوم ترس رہی تھی، وہ تبدیلی ہم لے کر آئیں گے، نو منتخب وزیراعظم نے کہا کہ سب سے پہلے ملک و قوم کو لوٹنے والوں کے خلاف کڑا احتساب ہو گا، کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔نہ مجھے ڈکٹیٹر نے پالا اور نہ میرا باپ سیاسی لیڈر تھا، میں بائیس سال کی جد وجہد کے بعد اس مقام تک پہنچا ہوں، عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا قوم سے وعدہ ہے کہ پارلیمنٹ کو بااختیار بناؤں گا اور پارلیمنٹ میں کھڑا ہو کر سوال کے جواب دوں گا۔اس ملک پر چھ ہزار ارب سے اٹھائیس ارب تک قرضہ چڑھایا گیا، بچوں کی تعلیم کا پیسا ضائع کیا گیا، ہم لُوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے، تاکہ کسی ملک کے سامنے بھیک مانگنا اور جھکنا نہ پڑے۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ آج ایوان میں شورمچانے والوں نے دوہزارتیرہ میں میری درخواست پرچار حلقے نہیں کھولے اور ہمیں عدالتوں میں جانا پڑا، چار حلقے کھلوانے پر برا بھلا اور اسٹیبلشمنٹ کا آدمی کہا جاتا رہا۔ اگر میری بات مان لی جاتی تو آج ہمارا انتخابی عمل ٹھیک ہوجاتا، ہم انتخابی نظام کوایسا بنائیں گے کہ ہارنے اورجیتنے والے دونوں قبول کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ جس طرح چاہتے ہیں تفتیش کرا لیں، الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ جائیں، ہم تیار ہیں، مجھے آج تک نہ کوئی بلیک میل کرسکا ہے نہ کرسکے گا۔ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آپ دھرنا دیں، کنٹینرہم دیں گے، آپ کیلیے لوگ بھیجیں گے اور دھرنے کیلیے کھانا بھی ہم ہی بھیجیں گے۔

مزیدخبریں