مادر وطن پر جان نچھاور کر کے اس کی آبرو بچانے والے عظیم شہید راشد منہاس کا آج سینتالیسواں یوم شہادت منایا جا رہا ہے۔

Aug 20, 2018 | 08:19

یہ بیس اگست انیس اکتہر کی حبس زدہ صبح تھی۔ نو آموز پائلٹ راشد منہاس اپنی تیسری تنہا پرواز کیلئے اڑان بھرنے ہی والے تھے کہ اُن کا سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمن خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں گھس آیا اور جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ تابع فرماں شاگرد خاموشی سے احتراماً خاموش رہے۔ انسٹرکٹر نے جیٹ طیارے کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد اُسے ہوا کے دوش پر اٹھایا اور اُس کا رخ ہندوستان کی طرف موڑ دیا۔ اُن دنوں مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر بہت سرگرم تھے اور مکتی باہنی زیرزمین رہ کر تخریبی کارروائیوں میں مصروف تھی۔ فوج کے اندر بھی بعض بنگالی افسر "آزاد بنگلہ دیش" کا خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی ہوا کا رخ دیکھ کر عوامی لیگ کا ساتھ دے رہے تھے۔جیٹ طیارے کا رخ بھارت کی طرف ہوا تو وطن پرست راشد منہاس کا ماتھا ٹھنکا۔ اُنہوں نے ماری پور کنٹرول ٹاور سے رابطہ قائم کیا تو انھیں ہدایت کی گئی کہ طیارے کو ہر قیمت پر اغوا ہونے سے بچایا جائے۔ اگلے پانچ منٹ استاد اور شاگرد کے درمیان کشمکش میں گزرے اور پھر راشد کا جذبہ جیت گیا اور اُنہوں نے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا۔ طیارہ زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔

ضرور پڑھیں: Maarka 18 September 2018

نیٹس

طیارہ بھارت چلا جاتا تو پاکستان کی دنیا بھر میں بہت جگ ہنسائی ہوتی۔ حکومت پاکستان نے نو آموز پائلٹ کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نشان حیدر سے نوازا۔ وہ شہادت کا رتبہ پانے والے پاک فضائیہ کے پہلے افسر تھے۔

مزیدخبریں