پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، بھارت کیساتھ دیرینہ مسائل کا حل خطے کی ترقی کیلیے ناگزیر ہے, وزیر اعظم عمران خان

Aug 24, 2018 | 21:09

کپتان کا دورہ دفتر وزارت خارجہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰحکام نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ دفتر خارجہ میں وزیر اعظم عمران کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور دیگرحکام موجود تھے۔ وزیراعظم پاکستان کو خارجہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کا محور ،افغانستان ،بھارت، امریکا رہا۔ ذرائع کے مطابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی وزیراعظم کو بریف کیا، بتایا گیا کہ بھارت مسلسل مذاکرات سے بھاگ رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم آشکار ہونے سے ڈرتا ہے، بھارت پاکستان میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، کلبھوشن کیس پر بھی کسی رابطے کا جواب نہیں دیا گیا، کلبھوشن کی گرفتاری نے بھارت کو بے نقاب کیا۔۔۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ افغانستان سے بہتر تعلقات خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔ افغان قیادت کے پاکستان مخالف بیانات پربھی برداشت کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ اعتماد کا فقدان ختم کرنے کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئیں، امریکا کےساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہی، ذرائع کے مطابق
ایران،وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی کشمیرپررپورٹ پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کو خارجہ پالیسی پر اپنے وژن سے آگاہ کیا اور گائیڈ لائن دی، ذرائع کے مطابق انہوں نے خارجہ پالیسی کو مزید فعال بنانے اور بیرون ملک سفارتکاروں کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ کسی بھی ملک کیساتھ خوامخواہ کا الجھاو نہیں چاہتے، بھارت کیساتھ دیرینہ مسائل کا حل خطے کی ترقی کیلیے ناگزیر ہے۔

مزیدخبریں