کشمیری نوجوان کو ڈھال بنانے والا بھارتی میجر سری نگر ہوٹل کیس میں مجرم قرار

Aug 27, 2018 | 17:35

 فوجی عدالت نے سری نگر کے ایک ہوٹل سے نوجوان لڑکی کے ساتھ گرفتار ہونے والے بھارتی میجر نتن گوگی کومجرم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق آرمی کورٹ آف انکوائری نے میجر نتن گوگی کو سری نگر ہوٹل کیس میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ فوجی عدالت نے میجر گوگی کی فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔فوجی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میجر گوگی نے مقامی افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا رشتہ قائم کرنے سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کی اور وہ حراست کے وقت اپنی ڈیوٹی کے مقام سے دور پائے گئے تھے جب کہ علاقے میں فوجی آپریشن بھی جاری تھا۔ یہ نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم پر بھارتی فوج کے حکام  میجر نتن گوگی کے خلاف سزا کا تعین کرسکتے ہیں جس میں انہیں ملازمت سے جبری ریٹائرڈ بھی کیا جاسکتا ہے یا پھر میجر نتن گوگی کا کورٹ مارشل بھی کیا جاسکتا ہے۔رواں سال 30 مئی کو میجر گوگی سری نگر کے ایک ہوٹل میں نوجوان لڑکی کے ہمراہ پائے گئے تھے جس پر مقامی افراد نے ہوٹل کا گھیراو کر لیا تھا تاہم ایس پی شمالی سری نگر نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر کے میجر گوگی اور لڑکی کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں میجر گوگی کو ان کے یونٹ کے حوالے کردیا گیا تھا جہاں ان کا ٹرائل کیا گیا۔واضح رہے کہ میجر نتن گوگی مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے دستے  راشٹریہ ریفل کی 53 بٹالین کے متنازع ترین فوجی افسر ہیں۔ میجر گوگی نے گزشتہ برس اپریل میں ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنایا تھا۔ اس قبیح فعل کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی تاہم بھارتی فوج نے تادیبی ایکشن لینے کے بجائے میجر گوگی کو فوجی اعزاز سے نوازا تھا۔ دریں اثناء  مقبوضہ کشمیر کے شمالی علاقے میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور کشمیری نوجوان شہید ہو گیا ہے۔ ضلع ککرناگ کے گاوں گڈول میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان شہید ہو گیا ہے جب کہ دو کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ضلع کلگام میں چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے معروف مقامی حریت رہنما آزاد ملک کے گھر پر چھاپا مارا گیا۔ بھارتی فوج نے حریت رہنما کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور گھر میں توڑ پھوڑ کی۔علاوہ ازیں ضلع کپواڑہ میں بھی گزشتہ رات گھر گھر تلاشی کے دوران چار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ضلع کپواڑہ میں گرفتار نوجوانوں میں عمر بشیر شیخ، دانش خضر شیخ، وسیم احمد اور طاہر حبیب بٹ شامل ہیں جنہیں نہ تو کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی والدین سے ملنے دیا جا رہا ہے۔ گرفتار نوجوانوں کے اہل خانہ نے نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل کے خدشے کا اظہار کیا ہے

مزیدخبریں