رواں سیزن میں 70ہزار ٹن سے زیادہ آم برآمد کیا جائے گا۔

مئی 27, 2017 | 16:30

پاکستان رواں سیزن کے دوران امریکہ ، جاپان ، اردن ،موریشس، جنوبی کوریا ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کو 70ہزارسے ایک لاکھ ٹن تک آم برآمد کرے گا۔ مینگو ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایاکہ پاکستان میںآم کے باغات کا کل کاشت شدہ رقبہ قریباً 4لاکھ 20 ہزار ایکڑ اور پیداوار قریباً17لاکھ ٹن ہے جس میں پنجاب کا حصہ 60فیصد ہے۔انہوںنے بتایاکہ گزشتہ سال کے دوران پنجاب میں 13لاکھ میٹرک ٹن سے زائد آم پیدا ہوئے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ اگرچہ پاکستانی آم اعلیٰ معیار، ذائقہ اور غذائیت کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے تاہم ملکی پیداوار کا صرف 6فیصد آم برآمد کیا جا رہا ہے۔انہوںنے بتایاکہ پاکستان کو آم کی برآمد سے ہر سال قابل لحاظ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے لیکن پھل کی مکھی کے حملہ کے باعث آم کا معیار بری طرح متاثر ہوتا ہے اس لئے اس کا تدارک ناگزیر ہے۔انہوںنے بتایاکہ آم کے پھل کی مکھی نہ صرف آم کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس کے انڈوں اور کیڑوں کی موجودگی آم کو برآمد کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے بتایاکہ امریکہ ، جاپان، تائیوان، کوریا اور یورپ کے بیشتر ممالک پاکستانی آم کو آم کے پھل کی مکھی کے باعث اپنے ممالک میں درآمدکرنے کی اجازت نہیں دیتے جبکہ امسال متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کی طرف سے آم کی درآمد پر پھل کی مکھی کے حملہ کی وجہ سے پابندی کا خدشہ لاحق ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ورلڈ ٹریڈرز آرگنائزیشن کے مطابق بین الااقوامی مارکیٹ میںپھلوں کے معیار کا اندازہ زہر اور کیڑوں کے اثرات سے پاک ہونے کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے کیونکہ زہروں کا سپرے کرنے سے پھلوں میں ان کے اثرات موجود رہتے ہیں جس سے پھلوں کی برآمدکا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اس لئے انسانی صحت کے پیش نظر اس جدید دور میں سپرے کا استعمال بہت کم اہمیت کا حامل رہ گیا ہے ۔انہوںنے بتایاکہ ماضی میں پھل کی مکھیوں کا کنٹرول زہروں کے استعمال سے کیا جاتا رہا ہے اس سے نہ صرف انسانی صحت بلکہ ماحول دوست کیڑوں کا نقصان اور ماحول میں بھی خرابی پیدا ہو جاتی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ پھل کی مکھی کو سپرے کے ذریعے کنٹرول کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ یہ اپنے قدرتی ماحول میں چھپنے کی اہلیت رکھتی ہے اس لئے باغبان پھل کی مکھی کے کیمیائی تدراک کیلئے ماحول دوست حیاتیاتی زہریں محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔

مزیدخبریں