وزیر ریلوے حنیف گل کو بلا کر پیار کریں اور ان سے کام لیں۔ وزارت داخلہ نہ ملنے کا غصہ وزارت ریلوے پر نہ نکالا جائے۔

Aug 30, 2018 | 11:58

سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے شیخ رشید کو مشورے، ٹوئٹر پر اپنے لکھتے ہیں کہ ریلوے کی زمینیں ریلوے کے نام کروانے کے لئے ہم نے سر توڑ کوشش کی، بلوچستان اور کے پی میں کامیاب ہو گئے، پنجاب اور سندھ کے لئے ریلوے سپریم کورٹ میں ہے، اس مقدمہ پر وزرات ریلوے کی توجہ ضروری ہے، ہاؤسنگ کے نام پر ریلوے کی زمینیں پرائیویٹ پارٹیز کو دینے سے لوٹ مار کو فروغ ملے گا۔ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بولان میل کےتیار ریک کو نٸی مسافر ٹرین کے لئےاستعمال کرناناانصافی اور روڈمیپ سے انحراف ہے، چلتی ٹرینوں کی کوچز اتار کر نئی ٹرین چلانے کی سوچ یکسر غلط ہے۔ نقصان والی مسافرٹرینیں چلانےسےاجتناب کیا جائے۔ چلتی ٹرینوں کی حالت درست کرنااولین ترجیح ہونی چا ہیے، اس کی تکمیل میں3 برس لگیں گے گریڈ ایک سے سولہ کےریلوے ملازمین کو سروس سٹرکچر درکارہے، جو کہ تیاری کے مراحل میں ہے، شیخ رشید مکمل کروائیں۔ ھم نے مسافر ٹرینز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ ضرورت اور ترتیب کے ساتھ نہایت کامیابی سے آگے بڑھایا۔ صحافیوں کو شیخ رشید کے سابقہ دور میں دی جانے والی 75 فی صد رعایت محض سیاسی بنیادوں پر اور ضرورت سے زیادہ تھی، براڈ گیج کو سٹینڈرڈ گیج پر لانے کا فیصلہ ریلوے کو لے ڈوبے گا، اس کے لئے اندرون ملک یا بیرون ملک وسائل دستیاب نہیں ھیں۔ ریلویز کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ کے مقابلہ میں پہلے ھی کم ھیں، اربوں روپے کے خسارے کے بوجھ تلے دبے ریلویز میں مفت سفر کی سہولت کی باتیں نامناسب ھیںیم ایل ون منصوبے کو پاک چین ریلوے ویژن کے مطابق آگے بڑھایا جائے عجلت میں کریڈٹ ریٹنگ کے لئے کئے گئے فیصلے ریلویز کے لئے نقصان دہ ھونگے۔ وزیر ریلوے حنیف گل کو بلا کر پیار کریں اور ان سے کام لیں۔ وزارت داخلہ نہ ملنے کا غصہ وزارت ریلوے پر نہ نکالا جائے

مزیدخبریں